Breaking News
Home / تازہ ترین / صوبے کے بلدیاتی نمائندے اڑھائی سال میں ترقیاتی فنڈ استعمال کرنے کا ہنر نہ سیکھ سکے/صوبائی حکومت سوچنے پرمجبور

صوبے کے بلدیاتی نمائندے اڑھائی سال میں ترقیاتی فنڈ استعمال کرنے کا ہنر نہ سیکھ سکے/صوبائی حکومت سوچنے پرمجبور

پشاور(نیوز ڈیسک)اڑھائی سالوں کے دوران کروڑوں کی گاڑیاں،مراعات اور اختیارات ملنے کے باوجود خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندے ترقیاتی فنڈ استعمال کرنے کا ہنر نہ سیکھ سکے اور اب اربوں روپے کے درست اور تیز تر استعمال کیلئے صوبائی حکومت نے بلدیاتی نمائندوں کیلئے طریقہ کار وضح کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت فنڈز کے استعمال میں تیزی لائی جا سکے گی۔30مئی 2015کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے بعد صوبے کے 24 اضلاع میں ویلج و نیبر ہڈ،تحصیل و ٹاؤن اور ضلعی حکومتیں قائم کی گئیں اور ان مقامی حکومتوں کیلئے صوبائی ترقیاتی پروگرام کا 30فیصد مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔مالی سال 2015۔16کے دوران مقامی حکومتوں کو مجموعی طور پر 15ارب 13کروڑ 70لاکھ 20ہزار روپے جاری کئے گئے جن میں ویلج و نیبر ہڈ کونسلوں کو 6ارب 55کروڑ،تحصیل و ٹاؤن کونسلوں کو 4ارب 29کروڑ 35لاکھ 10ہزار اور ضلعی حکومتوں کو بھی 4ارب 29کروڑ 35لاکھ 10ہزار روپے جاری کئے گئے گزشتہ مالی سال یعنی 2016۔17میں مقامی حکومتوں کو مجموعی طور پر 27ارب 48کروڑ 43لاکھ 40ہزار روپے جاری کئے گئے ہیں جن میں ویلج و نیبر ہڈ کونسلوں کو 10ارب 59کروڑ 32لاکھ 10ہزار،تحصیل و ٹاؤن حکومتوں کو 8ارب 40کروڑ 8لاکھ 50ہزار اور ضلعی حکومتوں کو 7ارب 85کروڑ 21لاکھ 60ہزارروپے جاری کئے گئے۔محکمہ خزانہ کے مطابق ان دوسالوں میں مقامی حکومتوں کو 42ارب 62کروڑ13لاکھ 60ہزار روپے جاری کئے گئے ہیں جن میں اب تک 12ارب 50کروڑ روپے ہی استعمال ہو سکے ہیں جو جاری شدہ فنڈز کا محض 30فیصد بنتا ہے مقامی حکومتوں کے پاس اس وقت 29ارب روپے سے زائد کی رقم اکاؤنٹس میں موجود ہے۔محکمہ خزانہ ذرائع کے مطابق کئی اہم منصوبوں کیلئے زیادہ فنڈز صرف اس لئے مختص نہیں کئے جا سکتے کیونکہ ترقیاتی پروگرام کا بڑا حصہ بلدیاتی نمائندوں کیلئے مختص کیا جاتا ہے ایسے میں اگر وہ دو سالوں کے دوران ان فنڈز کو بروقت استعمال نہیں کر پا رہے تو صوبے کے مسائل کم ہونے کی بجائے مزید بڑھیں گے اگر دو سالوں سے اکاؤنٹ میں موجود رقم کسی عوامی فلاح کے منصوبے پر خرچ کر دی جاتی تو زیادہ بہتر ہوتا۔دوسری جانب محکمہ بلدیات ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر محکمہ بلدیات،منصوبہ بندی اور خزانہ کے اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو ان فنڈز کے استعمال نہ ہونے کی وجوہات کا پتہ لگائے گی جبکہ فنڈز کے بروقت اور تیز استعمال کیلئے بھی مذکورہ کمیٹی اپنی سفارشات مرتب کرے گی جنہیں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی حتمی منظوری کے بعد لاگو کر دیا جائیگا۔