Breaking News
Home / تازہ ترین / میانمر میں مسلمانوں پرمظالم؛ڈسٹرکٹ بار چترال کا احتجاجی جلوس

میانمر میں مسلمانوں پرمظالم؛ڈسٹرکٹ بار چترال کا احتجاجی جلوس

چترال (محکم الدین) پاکستان بار کونسل کی کال پر میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف ڈسٹرکٹ بار چترال نے احتجاجی جلوس نکالا اور اتالیق پُل چترال میں جلسہ کیا۔احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ممبر صوبائی بار کونسل عبدالولی خان ایڈوکیٹ، سینئر ایڈوکیٹ فضل رحیم، ایم آئی خان سرحدی، نیاز اے نیازی اور صدر ڈسٹرکٹ بار ساجد اللہ ایڈوکیٹ نے کہاکہ یہ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ عالم اسلام کے حکمران سوائے ترکی اور ایران کے خواب خرگوش میں سوئے ہوئے ہیں جبکہ برما میں مسلمان اقلیتوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی خاموشی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہمیں اُن مظلوم مسلمانوں سے کوئی ہمدردی نہیں جن کا صرف اس بنیاد پر خون بہایا جا رہا ہے کہ وہ ا سلام کے پیرو کار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ روہنگیا کے مسلمانوں کو شہریت دی جائے اور عرب شیوخ عیش و مستی پر وسائل اُڑانے کی بجائے ان بے چارے مسلمانوں کی مالی مدد کریں۔ مظاہرین نے کہا کہ فوری طور پر او آئی سی کا اجلاس بُلا کر اس قتل عام کو روکنے اور آئندہ ان لو گوں کے جانی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات باعث حیرت ہے کہ میانمار کی خاتون راہنما آنگ سانگ سوچی جسے امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا ہے کی سرپرستی میں مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ حالانکہ اُسے نوبل انعام کی لاج رکھتے ہوئے مسلمانوں کی جانی اور مالی تحفظ کو ہر صورت میں یقینی بنانا چاہیے۔ لیکن ایسا کرنے کی بجائے وہ اپنی فوج کے ذریعے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ موجودہ حکومت ترکی کے نقش قدم پر چلے۔ اور روہنگیائی مسلمانوں کو بچانے کیلئے اپنے تمام سفارتی تعلقات اور اثرو رسوخ استعمال کرے۔ مقررین نے بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی طرف سے مظلوم برمی مسلمان مہاجرین کیلئے اپنی سرحد بند کرنے کو شدید تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ کام کسی مسلمان کی نہیں ہو سکتی۔ شیخ حسینہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ہاتھ بیعت کر چکی ہیں اس لئے اُس کے دل پر مہر لگی ہوئی ہے۔ اس موقع پر روہنگیا مسلمانوں کیلئے ہر قسم قربانی دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔