Breaking News
Home / مضامین / ایک بجلی گھر کے31 سال۔۔۔تحریر: ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

ایک بجلی گھر کے31 سال۔۔۔تحریر: ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

یہ 106 میگا واٹ کے چھوٹے بجلی گھر کی کہانی ہے اس کہانی سے پتہ چلتا ہے کہ وطن عزیزپاکستان میں ریاستی ادارے کس طرح برباد ہو چکے ہیں اور قومی اداروں کی فوری نجکاری کیوں ضروری ہے ؟ چترال میں گولین گول بجلی گھر کی منظوری ایکنک نے مئی 1986 ء میں دی ملاکنڈ تھری 102 میگا واٹ کی منظوری بھی اُسی میٹنگ میں دی گئی 2001 ء میں ملاکنڈ تھری کا کام اُس وقت کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل افتخار حسین شاہ نے واپڈا سے لیکر شائیڈو کو دیدیا اس وقت SHYDO ایک فعال ادارہ تھا SHYDO نے ڈھائی سالوں میں 102 میگا واٹ کا بجلی گھر مکمل کیا 20 میگاواٹ ملاکنڈ کو دیدیا 82 میگا واٹ نیشنل گرڈ کو دیدیا گولین گول بھی اس وقت شائیڈو کو دیدیا جا تا تو ڈھائی تین سالوں میں مکمل ہو جاتا یہ بھی شکر کا مقام ہے کہ 2002 میں گولین گول پراجیکٹ کیلئے زمین خریدنے کا مرحلہ شروع ہوا پھر کالونی اور دفترات کا منصوبہ آیا پھر سول ورک کا مرحلہ آیا پھر مشینر ی کی تنصیب کا مرحلہ آیا اس منصوبے کے پہلے یونٹ سے چترال اور نیشنل گرڈ کو 35 میگاواٹ بجلی دینے کی تاریخ 25 دسمبر2017 مقرر ہوئی شیڈول دیا گیا کہ جون 2018 میں تینوں یونٹ کا م کرینگے اور 106 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں آئے گی 31 سال بعد ایک چھوٹے پن بجلی گھر کا مکمل ہونا خوشی کا مقام تھا مگریہ خوشی اُس وقت کا فور ہوگئی جب پیسکو حکام نے جون 2020 سے پہلے نئے بجلی گھر کی بجلی تقسیم کرنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ دریا کے کنارے ہمارے ڈیزل جنریٹر لگے ہوئے ہیں اگر 106 میگاواٹ کی بجلی آگئی تو دو چھوٹے دیہات کو بجلی دینے والے ڈیزل جنریٹر بیکار ہوجائینگے جو اب دیا گیا کہ دریا کے کنارے ڈیزل جنریٹر کا نام لینا باعث شرم ہے دو دیہات کو بجلی دینے اور 480 دیہات کو بجلی دینے میں فرق ہے گولین گول کے پہلے یونٹ سے 480 دیہات کو بجلی ملے گی پیسکو حکام نے جواب دیا ہم نے ٹرانسمیشن لائن نہیں بچھایا پھر جواب دیا گیا کہ 275 دیہات کیلئے واپڈا کی ٹرانسمیشن لائن مو جود ہے 205 دیہات کے لئے پیڈو کی ٹرانسمیشن لائن گرڈ سے ملائی گئی ہے 4 میگاواٹ کا بجلی گھر 2015 کے سیلاب میں بہہ گیا یہ لائن خالی پڑی ہے مگر پیسکو حکام کا کہنا ہے کہ اس میں فنی، تکنیکی اور انتظامی مسائل ہیں جون 2020 ء سے پہلے گولین گول کے 106 میگاواٹ بجلی گھر سے ایک بلب بھی روشن نہیں ہوگا اس کی کوئی گنجائش نہیں یہ 31 سال پرانی کہانی ہے گولین گول پراجیکٹ کیلئے 1986 میں 3 تین ملازمین بھرتی ہوئے تھے ان میں سے دو پنشن لے چکے ہیں ایک وفات پاگیا ہے اب خبر دی جارہی ہے کہ بلب چلنے میں مزید 3سال لگیں گے 2020 سے پہلے بلب روشن نہیں ہوگا منیجمنٹ سائنسز کے پروفیسر وں کی ٹیم انسٹیٹوٹ آف بزنس ایڈ منسٹریشن (IBA) کراچی ،لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز (LUMS) اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) کیلئے کامیاب اور ناکام منصوبوں کی مثالیں ڈھونڈ کر کیس سٹڈیز تیار کرتی ہے گولین گول کا 106 میگاواٹ منصوبہ ناکامی کی نمایاں مثال ہے یہ حیرت انگیز کیس سٹڈی بنے گی بدقسمتی سے 1986 میں اس کی منظوری کے وقت محمد خان جونیجو کی حکومت تھی ایک سال بعد جونیجو کی حکومت ختم ہوئی تو منصوبہ سرد خانے کی نذر ہوگیا 1987 سے 2001تک چار حکومتیں آئیں چوتھی حکومت کے چار سال گزرنے کے بعد جنرل مشرف نے اس منصوبے کو سرد خانے سے نکالا فنڈ نگ کا انتظام کیا کوریا کی سامبو کمپنی کو ٹھیکہ دیا کام شروع کرایا سابق صدر آصف علی زرداری نے کام نہیں رکوایا سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف نے فنڈ نگ جاری رکھی ،سابق وزیر اعظم نواز شریف نے منصوبے کی تکمیل کیلئے ڈیڈلائن دیدی ایک سال پہلے 7 ستمبر 2016 کو نواز شریف کے دورہ چترال کے موقع پر پیسکو حکام نے پکاوعدہ کیا کہ پہلا یونٹ پیداوار دینا شروع کر ے تو پیسکو اس کو صارفین تک پہنچائے گی 28 جولائی تک پیسکو حکام اپنے وعدے پر قائم تھے 28 جولائی بروز جمعہ نواز شریف ’’سابق‘‘ہوگئے ہفتہ اور اتوار کو چھٹی تھی 31 جولائی کو پیر کے دن پیسکو حکام نے دوٹوک الفاظ میں لکھ دیا کہ ’’شاہ رفت شور با رفت ‘‘گولین گول کی بجلی گھر سے صارفین کو بجلی دینے میں مزید تین سال لگینگے روزانہ 20 گھنٹے لوڈ شیڈنگ اور بقیہ 4 گھنٹے کم وولٹیج کا عذاب جھیلنے والے عوام مزید برداشت نہیں کر سکتے اللہ نہ کرے ’’یا اپنا گر یبان چاک یا دامن یزدان چاک ‘‘کی نوبت آئے اگر قومی سطح پر اس کا حل تلاش کیا جائے تو واپڈا کی نجکاری اس کا واحد حل ہے ۔