Breaking News
Home / مضامین / اسامہ شہید پارک۔۔۔۔ اسے مزید بہتر کریگا کون؟؟؟ اسامہ تو چلا گیا/تحریر:محمد کوثر ایڈوکیٹ

اسامہ شہید پارک۔۔۔۔ اسے مزید بہتر کریگا کون؟؟؟ اسامہ تو چلا گیا/تحریر:محمد کوثر ایڈوکیٹ

اسامہ شہید بطور ڈپٹی کمشنر چترال صرف ڈیڑھ سال میں جو کارکرگی دیکھا گئے بخدا اگراس ملک کا ہر ڈپٹی کمشنر اسی ایثار،قربانی،رحم اورایمانداری سے آج کام کرنا شروع کردے تو یقین ہے پھر اس قوم کے لیے 2025 یا ’’4025‘‘کی وژن کی کوئی ضرورت نہیں رہیگی بلکہ صرف دو سال میں پاکستان دنیا کا سپر پاورنہ بنے’’تو داغ نام نہیں‘‘۔جس قوم کے پاس ایٹمی طاقت ہو بلکہ سب سے بہترین طاقتور افواج ہوں تو صرف سول بیوریکریسی بھی چند روزہ زندگی پر عاقبت کی زندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کارکردگی دیکھائے تو پاکستان دنیا کے طاقتور ترین ملکوں سے آگے نکل سکتا ہے۔
ریاست عوام کی خوشنودی پر انحصار کرتی ہے اگرعوام خوش ہوں تو ملکی مسائل نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں اور عوام کو بہترین برموقعہ ریلیف دینے والا صرف انتضامیہ ہے۔ڈی سی موقع کا قاضی بھی اور عملدرآمد کرانے کے لیے خود ہی جلاد یا کوتوال بھی ہوتا ہے۔عدالت صرف فیصلہ دیتا ہے عملدرآمد انتظامیہ کرتا ہے اور اکثر برموقعہ فیصلوں کی وجہ سے ریاستی رٹ برقرار رہتا ہے اسامہ مرحوم صرف ڈیڑھ سال کے دوران چترال میں جو کارنامہ ہائے انجام دیے ہیں ان میں سرفہرست دنیں کے لینک کے مقام پر’’پارک‘‘کی بنیاد ہے.پارک کی اہمیت روزبروز بڑھتی جارہی ہے اس پر الگ بات کی جاسکتی ہے مگر حیرت انگیز بات یہ کہ دنیں کی تاریخ کے قدیم ترین مقدمہ جس کی فائلیں کئی معصوموں کی لہو سے رنگیں تھیں اس کا نہ صرف تصفیہ کرایا بلکہ دشمنی بھی ختم پبلک کو بھی فایدہ فریقین بھی خوش۔
اس پارک کی چارسو پہلو ذھن میں اس وقت پیدا ہوئے جب بچے بضد ہوئے کہ’’اسامہ پارک جانا ہے اور صرف تم نے ہمیں لےجانا ہے‘‘۔میں نے ہاتھ جوڑا گریہ زاری کرتے ہوئے معذرت کی حتی کہ سو سو روپوں کا لالچ بھی دیا مگر بقول اس کالاش بزرگ کے کہ جس سے کسی مہتر نے پوچھا کہ مجھ سے بھی بڑا ظالم کوئی ہے تو کالاش بوڑھے نے برجستہ جواب دیا تھا کہ ہاں حضور اور بھی ہے۔مہتر غصے سے پوچھا تو جواب دیا’’بچہ‘‘۔۔۔بچے واقعی ظالم ہوتے ہیں میں ھتیار ڈالنے ہی والا تھا کہ’’اسٹبلشمنٹ‘‘نے بھی غیر ضروری وغیراخلاقی اورغیرآئنی حرکت کرتے ہوئے حسب عادت ٹانگ اُڑاتی ہوئی حکم دیا کہ بچوں کو سیر کرایا جائے۔اب جو کام گھنٹے بعد کرنے کا ارادہ کیا تھا مجبورامنٹوں میں کرنا تھا۔بخدا میرے اور پاکستان کے حالات تقریبا یکسان ہیں البتہ اتنا فرق ہے کہ پاکستان میں آرمی جیف تبدیل ہوتا ہے جبکہ میری ایسی قسمت کہاں؟لہذا’’حکمِ اسٹبلشمنٹ مرگ مفاجات‘‘کے مصداق پلک جھپکتے پارک پہنچ گئے۔ رونق لگا تھا،بچوں کی خوشی دیدنی تھی.ان کی آنکھوں کی چمک ہونٹوں پہ خوشی اور خوشی کی وجہ سے گالوں کی سرخیان اسامہ مرحوم کے لیے محبت کے نذرانے برسارہے تھے۔
اس وقت سامنے پیرسائیں سید مظہرعلی شاہ اے.اے.سی اور بارڈر صوبیدار نصیر صاحب نمودار ہوئے۔اسامہ مرحوم کی ٹیم میں پیر صاحب کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی طرح تھا اور حقیقتا مظہر صاحب دیانت وامانت میں روشن نام رکھتے ہیں۔موجودہ اے.سی جناب عبدالاکرم صاحب بھی اسامہ کے کابینے کا بنیادی جز رہے ہیں۔دونوں بطور قشقاری اپنے عہدوں کا حق ادا کرتے آئے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ بجلی کی عدم دستیابی پر ہمارا آپس میں تندوتیز جملوں کا بھی تبادلہ ہوتا رہا ہے البتہ لینک کے مقام اس’’چمن‘‘کی آبیاری میں ان کا خون پسینہ بھی شامل ہے۔میرا دونوں سے تعلق جدیانہ و پشتیانہ ہونے کی وجہ سے محبت اور احترام کا قایم دایم ہے۔
پیر صاحب کے ساتھ خونی،روحانی بلکہ’’اروحانی ‘‘تعلق ہے۔حسن آباد سے لیکر ریچ وہاں سے بریپ یارخوں،چرون وغیرہ تک پھیلے ہوئے سادات خاندان کے ساتھ وسیع خونی رشتوں کے علاوہ ہمارے گھروں میں اھل بیت اور بزرگوں کے ساتھ عقیدت حد سے زیادہ رہا ہے اور بہت پرانا رہا ہے۔میں اکثر اپنے اسی سالہ دادوں کو بیس سال کے کم عمر سید کے ہاتھ چومتے دیکھتا رہا ہوں۔مجھے یاد ہے وہ بوڑھی بیوہ بہ وجہ دشمنی میرے پیدائش سے بھی دس سال پہلے ہمارے ایک گھر میں پناہ لی تھی.خاتوں سید تھیں اس گھرانے کے بوڑھیان,نانے نانیان حتی کے بھتیجیان اس کے ساتھ ایسے احترام سے پیش آتیں گویا گھر کی مالکن وہ’’مہاجر‘‘خاتون ہو۔ اسی وجہ سے اہل بیت سے عقیدت کا رشتہ میرا بہت گہرا ہے۔ اسی طرح ایک اور دلچسپ واقعہ سوات میں پیش آیا کہ دیر کے ’’صاحبزادگان فیملی‘‘ سے ایک جوان سال شخص ایک اور ساتھی کے ساتھ صبح سویرے کسی کام کے لیے تشریف لائے،دونوں کے جوتوں کو دیکھ کر میں نے اندازہ لگایا کہ سفید پوشی کا بھرم رکھے ہوئے ہیں۔قبلہ وکعبہ ان کی کچھ اس طرح آوبھگت کی کہ بعد از روانگی خواجگان میں نے ان کے تعارف سے زیادہ وجہ اہمیت پوچھا تو غصے میں کہا کہ ’’یہ دیر کے فقیر لوگ صاحبزادہ صاحب تھے وہ دوسرا اس کا ملازم تھا‘‘۔میں’’جمہوری انداز فکر‘‘کا نیا خون ہونے کے بنا طنزیہ سوال داغا کہ ’’بابا تم جس طرح ان کی عزت کررہے تھے مجھے لگ رہا تھا کہ شاید یہ آپ کا داداکمانڈر اسفندیار خان ہے‘‘۔۔۔ تو قبلہ پہلے ہنسے پھر حسب عادت غصیلے انداز میں فرمانے لگے "اے عقل کے اندھے یہ فقیر لوگ ہیں ان کی دعائیں لینا چاھئیے اور ہاں تم بھی اخونزادگان،سادات اورخاندان قاضیان کا خاص خیال رکھیں۔بس گھر میں یہی پٹی پڑھانے کی وجہ سے پارک میں اسی’’غلامانہ‘‘ذھنیت سے مغلوب ہوکر پیر کے ساتھ ’’دست بلندی وعید مبارکی‘‘کرتے ہوئے ہاتھ ملایا۔باتوں باتوں میں پارک کی مزید بہتری پر بات چیت ہوئی۔سید مظہرعلی شاہ کے کھوئے کھوئے آنکھوں سے محسوس ہورہا تھا کہ ان کی شدید خواہش ہے کہ اس پارک کو مزید ترقی دی جائے،،،اس کا لہجہ اور ہرلفظ درد بھرے اور سوالیہ تھے۔۔۔کہ…اس پارک کو مزید کس طرح بہتر بنایا جاسکےاورکیسے؟؟؟ اسامہ چلا گیا۔۔۔ کیا اسامہ کے چلے جانے کے بعد اس کے لگائے ہوئے چمن کو ہم پھر سے ویران کریں۔۔۔؟؟؟یقیناً نہیں۔۔۔ تو پھر ۔۔۔ اب کریگا کون؟؟؟
ہم تمام’’سیاہ سی‘‘ایک ہی چٹے کے پٹے ہیں۔۔۔جس طرح بجلی کی سیاست کرکے عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اسی طرح یہاں بھی دنگا فساد برپا کرینگے۔ہم سیاسی لوگ مذھب کو تماشا بناتے ہیں یہ پارک کس کھیت کی مولی ہے؟ھم ایک دوسرے سے یہی سوال کرتے ہوئے رخصت ہوئے ..کہ…پارک کو مزید بہتر بنایا جانا چاھئے….مگرکیسے؟…اسامہ تو چلا گیا..